صلح پسندی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - امن پسندی، میل ملاپ، مصالحت کیشی۔      "دوسری قومیں اور ذاتیں جو صلح پسندی اور امن پسندی کی قائل تھیں انہیں بزدل اور حقیر نظر آئیں۔"     رجوع کریں:   ( ١٩٨٦ء، تاریخ اور آگہی، ١٥٠ )

اشتقاق

عربی اور فارسی اسما سے مرکب 'صلح پسند' کے ساتھ فارسی قاعدے کے تحت 'ی' بطور لاحقہ کیفیت بڑھانے سے اسم 'صلح پسندی' بنا۔ اردو میں سب سے پہلے ١٩٨٦ء کو "تاریخ اور آگہی" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - امن پسندی، میل ملاپ، مصالحت کیشی۔      "دوسری قومیں اور ذاتیں جو صلح پسندی اور امن پسندی کی قائل تھیں انہیں بزدل اور حقیر نظر آئیں۔"     رجوع کریں:   ( ١٩٨٦ء، تاریخ اور آگہی، ١٥٠ )

جنس: مؤنث